Orhan

Add To collaction

تو جو مل جائے

تو جو مل جائے از انا الیاس قسط نمبر3

وہيبہ بيٹے ميں نے لنچ بنا ديا ہے تم لے جانا کل بھی نہيں لے کر گئيں تھيں" وہ جو تيزی سے کچن مين آکر ڈائينگ ٹيبل پر سے ايک سلائس اٹھا کر جلدی جلدی سلائس پر مارجرين لگا رہی اور ساتھ ہی کھڑے کھڑے دودھ کا گلاس پينے ميں مگن ميں تھی۔ اس نے خديجہ کی بات کا کوئ جواب نہيں ديا اور بے تاثر چہرے کے ساتھ اپنا کام جاری رکھا۔ "ہبہ" ان کی پکار پر اس نے تڑپ کر ان کی جانب ديکھا۔ "مجھے اس انداز سے بلانے کا اختيار ميں نے کبھی بھی آپکو نہيں ديا۔ آنٹی۔۔۔" وہ چٹخ کر بولی اندر آتا خبيب اسکے انداز پر ٹھٹھک کر دروازے پر ہی رک گيا۔ "آئندہ ميرے لئيۓ يہ سب تردد کرنے کی ضرورت نہيں ميری اماں نے مجھے بہت سے پيسے دئيۓ ہوۓ ہيں کچھ بھی کھا لوں گی۔ان سب دکھاوؤں کی مجھے نہ تو کبھی ضرورت رہی تھی اور نہ ہی اب ہے۔ " غصے سے ان کی جانب ايک نظر ديکھ کر وہ دروازے کی جانب مڑی تو اس ميں استعادہ خبيب کو ديکھ کر اور بھی غصے سے کھول گئ۔ تيزی سے دروازے کی جانب بڑھی جہاں وہ پھيل کے کھڑا تھا۔ "ايکسکيوزمی راستہ چھوڑ کے کھڑے ہوا کريں آپ اکيلے اس گھر ميں نہيں رہتے کہ جب جہاں دل چاہے کھڑے رہيں" ايک ايک لفظ چبا کر بولتی وہ خبيب کو بھی غصہ دلا گئ۔ رستہ چھوڑتا اس سے پہلے کہ وہ کچھ بولتا وہ آندھی طوفان کی طرح وہاں سے چلی گئ۔ اس نے سر جھٹکتے جيسے ہی خديجہ کی جانب ديکھا انہيں آنسو بہاتے پايا۔ "افوہ چچي آپ بھی کس خبطی کی باتوں کو دل پر لے ليتی ہيں" وہ انکی جانب بڑھا اور آہستہ سے انہيں اپنے ساتھ لگاتے وہيبہ کے لفظوں کے نشتر کا اثر زائل کرنے کی کوشش کرنے لگا۔ "وہ تو ہے ہی غصے کی تيز پليز آپ اسکی باتوں کو دل پر نہ ليا کريں۔ دادو نے کچھ زيادہ ہی اسے سر پر چڑھا ديا ہے" اس نے انکے آنسو صاف کرتے انہيں تسلی دی۔ اسے اپنی يہ چچی بہت اچھی لگتی تھيں ملنسار سی، سب کے دکھوں پر ان کا مداوا کرنے واليں۔ مگر ہر وقت وہيبہ اور رقيہ بيگم کے غصے کا نشانہ بنی رہتيں۔ "پتہ نہيں يہ کب ميری محبتوں کو محسوس کرےگی" انہوں نے آنسو پونچھتے کس قدر حسرت سے کہا۔ خبيب کا دل کيا ابھی اور اسی وقت جاکر اس مغرور لڑکی کا دماغ ٹھکانے لگا دے جو انہيں نجانے کس بات کی سزا ديتی تھی۔ "مان لے گی آپ بس اللہ پر يقين رکھيں اور پليز اب مجھے اپنے بيٹے کو تو کچھ پوچھ ليں کہ بيٹی کے غم ميں مجھے بھوکا رکھنا ہے۔" اس نے جلدی سے ان کا دھيان اپنی جانب لگا کر وہيبہ کی تلخيوں کا اثر بھلانے کی کوشش کی اور وہ بہل بھی گئيں۔ "ارے کيوں نہيں ميری جان بيٹھو نا" وہ تيزی سے چولہے کی جانب مڑتيں اس کے لئيۓ ناشتہ بنانے لگيں۔


"يار جلدی کرو بھائ ہميں آئسکريم کھلانے لے جا رہے ہيں" نيہا تيزی سے اس کے کمرے ميں آتے ہوۓ بولی جو اپنا کل کا ليکچر بنانے مين مگن تھی۔ "تم لوگ جاؤ مجھے نہيں جانا" وہ سپاٹ چہرہ لئيے بولی۔ وہ کبھی بھی اب خبيب کے منہ سے نکلنے والے وہ نفرت بھرے انداز نہيں بھول سکتی تھی۔ جو پہلے کزن ہونے کے ناطے وہ اسے تھوڑا بہت مارجن دے ديتی تھی اب تو اس کا بھی سوال ہی پيدا نہيں ہوتا تھا۔ "يار تم نے اپنی ڈيڑھ اينٹ کی مسجد ضرور الگ رکھنی ہوتی ہے۔ اٹھو بس مجھے نہيں پتہ" نيہا نے اسے زبردستی اٹھانے کی کوشش کی۔ "کيا مصيبت ہے جب ميں نے کہہ ديا کہ نہيں جانا تو نہيں جانا۔۔۔بخش دو مجھے اور چھوڑ دو ميرے حال پر" يکدم وہ روتے ہوۓ واش روم ميں بند ہوگئ۔ نيہا تو اسکے تيور ديکھ کر ہکا بکا رہ گئ۔ وہ سمجھنے سے قاصر تھی کہ جب سے اس رشتے کی بات ہوئ تھی تب سے وہيبہ بجھ کر رہ گئ تھی۔ آخر ايسا کيا ہوا ہے کہ وہ ان سب سے چھپا رہی ہے۔ وہ جو ايک دوسرے کی ہر بات سے واقف ہوتی تھيں اب تو جيسے اسے جاننے سے قاصر تھيں۔ ايک عجيب سا شيل اس نے اپنے گرد بنا ليا تھا۔ وہ خاموشی سے کمرے سے باہر نکل گئ۔ گھنٹے بعد سب کی واپسی ہوئ تو اب کی بار فارا اس کے کمرے مين آئ۔ نيہا اسے بتا چکی تھی کہ وہيبہ نے اسکے ساتھ کس قسم کا سلوک کيا ہے۔ لہذا اب اس مين دوبارہ اس کے پاس جانے کی ہمت نہين تھی۔ "وہيبہ يار ہم لوگ تمہارے لئيۓ آئسکريم لاۓ ہيں تم جا نہيں سکتی تھيں مگر کم از کم اب گھر ميں تو کھا سکتی ہو نا" وہ لوگ جانتے تھے کہ اسے آئسکريم سے عشق ہے۔ جتنی مرضی ٹھنڈ ہوتی وہ آئسکريم کبھی نہيں چھوڑتی تھی۔ "ميں نے تم لوگوں کو کہا تھا کہ ميرے لئيے لاؤ" تيز نظروں سے اس نے فارا کو ديکھا۔ "کيا ہوگيا ہے يار اتنی خونخوار کيوں ہو رہی ہو۔ کيا تم اس لڑکے کو دل دے بيٹھی تھيں" فارا نے اپنی طرف سے مذاق کرکے اس کو نارمل کرنے کی کوشش کی مگر وہ نہيں جانتی تھی کہ کيسا آتش فشاں پھٹے گا۔ "ميری جوتی کی نوک پر وہ شخص بلکہ ہر لڑکا۔ آئندہ يہ گھٹيا مذاق کيا نا تو ميں کسی کا بھی لحاظ نہين کروں گی اور تمہارا بھی منہ توڑ دوں گی۔ يہ آئسکريم کون لايا ہے ميرے لئيۓ" وہ جو ابھی تک بيڈ پر بيٹھی کتابيں پھيلائ بيٹھی تھی۔ فارا کی بات پر غصے سے نوٹس اٹھا کر کارپٹ پر پھينکتی حلق کے بل چيختی اس کے مذاق کا جواب دے کر آخر مين استفسار کيا۔ "ہبہ" وہ تو اس کے انداز ديکھ کر صدمے کا شکار ہوگئ۔ "جو پوچھا ہے اس کا جواب دو" اپنی لال انگارہ آنکھيں اس کے چہرے پر گاڑتے دوبارہ اس سے پوچھا "بھائ۔۔۔خبيب بھا‏ئ" فارا کے اتنا سا کہنے کی دير تھی وہ آندھی طوفان کی طرح کمرے سے نکلی پہلے فريج کی جانب گئ۔ سامنے ہی کارنيٹو پڑی نظر آگئ۔ وہ غصے سے اسے ہاتھ ميں دبوچے خبيب کے کمرے کی جانب بڑھی۔ غصے ميں يہ بھی ياد نہ رہا کہ دروازے پر نوک ہی کر ليتی۔ وہ جو نائٹ بلٹ آن کئيۓ بيڈ ميں کمفرٹر لئيۓ ليٹا موبائل پر ميسجز چيک کر رہا تھا۔ ويسٹ اور ٹراؤزر پہنے ہوۓ تھا۔ اسے طوفان کی طرح اندر آتے ديکھ کر ہڑبڑا کر اٹھا۔ شکر تھا کا شرٹ پاس ہی رکھی تھی۔ جبکہ وہ اپنے غصے کی وجہ سے کسی اور چيزپر دھيان دينے کی پوزيشن ميں نہيں تھی۔ "کس خوشی ميں آپ نے يہ مہربانی کی ہے مجھے پر" غصے سے کارنيٹو لہراتی وہ اسکی آنکھوں ميں آنکھيں ڈالے سرد لہجے ميں بولی۔ خبيب ناگواری سے اسکی جانب ديکھتا ہوا اٹھا شرٹ پہنی پھر اسکی جانب متوجہ ہوا۔ "کسی کے کمرے ميں آنے سے پہلے ناک کرتے ہيں مگر آپکو تو تميزچھو کر نہيں گزری۔ اور رات کے اس پہر چاہے کوئ لڑکا آپکا کزن اور بہت شريف ہو پھر بھی اسکے کمرے ميں نہيں جاتے۔۔مگر آپ نے تو بے شرمی کے سارے ريکارڈ توڑنے کا ٹھيکا ليا ہوا ہے۔ رہ گئ بات اس آئسکريم کی تو مين نے اپنی بہنوں کے مجبورکرنے پر لی تھی۔ آپ جيسيوں پر مجھے اپنے پيسے ضائع کرنے کا شوق نہين" اپنی گھمبير آواز ميں دھميے مگر طنزيہ لہجے ميں بولتا وہ اسے اچھی طرح جتا گيا کہ وہ اسے کيا سمجھتا ہے۔ "آپکی حرام کمائ کھانے کا مجھے بھی کوئ شوق نہيں اور ميرے بارے ميں کس حد تک گری ہوئ سوچ آپ رکھتے ہيں يہ بتا کر آپ نے يہ ضرور ثابت کر ديا ہے کہ آپ جيسوں کا تعليم بھی کچھ نہيں بگاڑ سکتی۔ اس سوغات کو اپنے ہی جيسی گذٹيا عورتوں پر ضائع کی جئيے گا" کاٹ دار لہجے مين کہتی وہ کارنيٹو اسکے منہ پر مار کر کمرے سے جانے لگی مگر اسکی اس حرکت پر وہ ايک جست ميں اسکی طرف بڑھتا جارحانہ انداز ميں اس کا بازو تھام کر اپنی جانب کھينچ چکا تھا۔ وہيبہ تو اس حرکت پر بھونچکا رہ گئ۔ "اس حرکت کا جواب مين بہت اچھے سے آپکو دے سکتا ہوں مگر ميری ماں کی تربيت نے مجھے ہر حال ميں عورت کی عزت کرنی سکھائ ہے چاہے وہ کوئ کوٹھے والی ہو۔۔۔يا آپ جيسی اخلاق سے گری ہوئ" جبڑے بھينچے وہ اسے کس کے ساتھ ملا گيا تھا اور کس تربيت کا طعنہ دے گيا تھا۔ "ميری تربيت پر حرف اٹھانے سے پہلے يہ سوچ لينا کہ ميری تربيت اسی عورت نے کی ہے جس نے آپکی باپ کی تربيت کی ہے" اس کے خيال ميں اس نے خبيب کا دماغ اچھی طرح اس بات سے ٹھکانے لگا ديا تھا۔ "ہاں مگر انہی کے بے جا لاڈ پيار نے آپکو چھوٹ دی ہے کہ ہر جگہ انکی تربيت پر سواليہ نشان اٹھائيں۔ خود کو اشتہار بنا کر لوگوں کے سامنے پيش کريں" جس بات کا طعنہ وہ دے رہا تھا اسے اچھی طرح سمجھ آگيا تھا۔ "ميں آپ کی ذمہ داری نہيں کہ آپ مجھ پر اس طرح کے کوئسچنز اٹھاتے پھريں۔ اندھے دوستوں سے دوستی کيا کريں يا پھر انہيں گھر کے باہر ہی رکھا کريں۔ اور ميری بے باکی پر تو بڑے ليکچر دے رہے ہيں اپنی بہنوں کو کيا برقعہ ميں لے کر باہر جاتے ہيں" اپنا ہاتھ اسکی گرفت سے چھڑاتے وہ سينے پر ہاتھ باندھ کر استہزائيہ مسکراہٹ اس پر اچھالتے ہوۓ بولی۔ "نہين کيونکہ انہيں اپنی حدود پتہ ہيں۔" نجانے اسے کيا پرخاش ہوگئ تھی وہيبہ سے۔ "تو مجھے کب کسی کے ساتھ ڈيٹ مارتے ديکھا ہے يا کسی کو گھر تک لاتے ديکھا ہے" وہ دانت پيس کر بولی۔ "وہ بھی کسی دن ہم ديکھ ليں گے جو آپکے حالات ہيں ابھی ايک آيا ہے کل کو نجانے اور کتنے آئيں گے" "يہ آپکا مسئلہ نہيں" اس نے دوبدو اسکی بات کا جواب ديا۔ " جب تک آپ اس گھر سے جڑی ہيں يہ ہم سب کا مسئلہ ہے" وہ بھی اسے زچ کرنے کی ٹھان چکا تھا۔ "اور يہ گند صاف کريں ميرے بيڈ پر سے۔۔۔بيڈ شيٹ بھی چينج کريں" وہ اسکی توجہ اس پگھلی ہوئ آئسکريم کی جانب دلا کر بولا جو اب اسکے بيڈ کا نقشہ بدل رہی تھی۔ "نوکر نہيں ہوں آپکی" تڑخ کراس کی بات کا جواب ديتی وہ پھر سے جانے لگی کہ اس نے دوبارہ اسکی کلائ پکڑ کر اب کی بار مروڑی۔ "ميں آپکو اس قابل بھی نہيں سمجھتا کہ اپنی نوکرانی کا درجہ دوں۔۔۔اسے صاف کريں نہين تو اس کمرے مين لاک کرکے چلا جاؤں گا۔ پوليس والا ہوں لوگوں کو سيدھا کرنے کے ہزاروں طريفوں سے واقف ہوں مجبور نہ کريں کہ آپ پر آزماؤں" اسکے لہجے اور ہاتھ کی سختی پر اس کا دل کيا اس بندے کا منہ توڑ دے۔ "ہاتھ چھوڑيں ميرا، جانتی ہوں وحشی ہيں آپ مجھے بار بار بتانے کی ضرورت نہيں" ٹيڑھی نظروں سے اپنے پيچھے کھڑے خبيب کو ديکھ کر بولی۔ "تو پھر اس وحشت کو باہر آنے سے پہلے انسانوں کی طرح سب ٹھيک کرکے جائيں ميں واش روم ميں جارہا ہوں باہر آؤں تو سب صاف ہو اور آپ کا چہرہ مجھے يہاں نظر نہ آۓ اور اگر يہاں سے کچھ صاف نہيں ہوا تو ياد رکھنا ميں آپکے کمرے ميں آکر آپکو اٹھا کر دوبارہ يہاں لاؤں گا چاہے اسکے نتائج کچھ بھی ہوں" کہتے ساتھ ہی ايک جھٹکے سے اسکا ہاتھ چھوڑتا وہ واش روم ميں بند ہوگيا۔ جس قسم کے اسکے عزائم تھے وہ کچھ بھی کر سکتا تھا۔ اتنا گھٹيا اور بليک ميلر ہوگا وہ سوچ بھی نہيں سکتی تھی جلدی سے الماری کی جانب بڑھی کھولتے دماغ سے سارا کچھ ٹھيک کيا مگر دل بار بار کچھ ايسا کرنے پر اکسا رہا تھا کہ اس سب کا بدلہ پورا ہو جاۓ۔ ہاتھ چلاتے ساتھ ساتھ دماغ بھی تيزی سے کام کر رہاتھا يکدم اس کے موبائل پر نظر پڑی تو تيزی سے اٹھا کر موبائل نيچے رکھا اور تيزی سے جوتی اس پر ماری کہ اسکرين پر جگہ جگہ لکريں پڑ کر وہ ٹوٹ گئ۔ خود کو غائبانہ تھپکی ديتے اس نے موبائل اٹھا کر سائيڈ ٹيبل کی دراز ميں رکھا اور گندی شيٹ ہاتھوں ميں اٹھاۓ تيزی سے باہر نکل۔ نکلتے ساتھ ہی ياہو کا خاموش نعرہ ہوا کے سپرد کيا۔ اسے لگا جيسے دل ميں ٹھنڈ پڑ گئ ہو اب۔ تيزی سے کمرے ميں جاکر دروازہ لاک کيا۔ خبيب جس وقت واش روم سے باہر آيا وہ جاچکی تھی اور دوسری بيڈ شيٹ سليقے سے بچھی ہوئ تھی۔ وہ دل ميں خوش ہوتا دروازہ بند کرکے بيڈ پر ليٹا۔ پھر کچھ ياد آنے پر موبائل ڈھونڈنے لگا ادھر ادھر بيڈ سائيڈ ٹيبلز پر ديھکا۔ تشويش ہوئ کہ کہيں وہ نہ اڑا کر لے گئ ہو۔ جيسے ہی دراز کھولی تو الٹا پڑا ہوا موبائل نظر آيا۔ سکھ کا سانس ليتے جيسے ہی اسے پکڑ کر سيدھا کيا اسکی چکنا چور اسکرين ديکھ کر غصے سے مٹھی بھينچی۔ دل تو کيا ابھی جا کر اس کا دماغ ٹھکانے لگا دے پھر ضبط کرکے کچھ سوچتا ہوا وہ ليٹ گيا۔


اگلے دن ناشتے کی ميز پر وہيبہ کا ٹکراؤ خبيب سے ہوا مگر اسے انتہائ نارمل ديکھ کر پہلے تو وہ حيران ہوئ۔ کيونکہ اسکے غصے سے گھر ميں سب ڈرتے تھے۔ مگر اس وقت وہ ايسے بيٹھا تھا جيسے کل رات کچھ ہوا ہی نہ ہو۔حالانکہ وہ اپنی چيزوں کے بارے مين بہت پوزيسيو تھا کسی کو اپنی چيزوں کو ہاتھ نہين لگانے ديتا تھا۔ اسی لئيۓ وہيبہ کا حيران ہونا بنتا تھا۔ مگر پھر يہ سوچ کر خوش ہوئ کہ يقيناّ اسے اچھی طرح اندازہ ہوگيا ہے کہ وہيبہ سے پنگا لينے کا انجام کيا ہے۔ دل ميں خوش ہوتی وہ جلدی جلدی ناشتہ کرتی اپنی فائل موبائل اور گاڑی کی چابی اٹھاتی باہر کی جانب نکلی۔ ابھی لان کی سيڑھيوں پر ہی پہنچی تھی کہ پيچھے سے کسی نے بہت تيزی سے آکر اس سے پہلے سيڑھياں اترتے اس کا رستہ روکا۔ خبيب کو اپنے سامنے ديکھ کر اسکی تيورياں چڑھيں۔ جو فل يونيفارم ميں خوبرو لگ رہا تھا۔ مگر وہيبہ کو اس وقت کسی زہر سے کم نہيں لگا تھا۔ "پيچھے سے وار کرنے والوں کو ميری لغت ميں بزدل کہتے ہيں مزہ تو تب ہے جب سامنے سے بہادروں کی طرح بدلہ ليا جاۓ۔۔۔ ايسے۔۔۔" وہ جو ابھی اسکی بات کو پوری طرح سمجھ نہيں پائ تھی۔ يکدم خبيب نے اس کا موبائل اسکے ہاتھ سے جھپٹا اور زور سے سيڑھيوں پر دے مارا۔۔ "آئندہ مجھ سے بدلہ لينے کا سوچنا بھی مت۔۔۔۔ميں اپنے دشمنوں کو کبھی معاف نہيں کرتا۔۔اس معاملے ميں کافی بخيل ہوں" اسے وارن کرتا گہری نظروں سے اسے ديکھتا وہيبہ کو حيران چھوڑ کر آنکھوں پر گاگلز لگا تا ايک شان سے اپنی گاڑی کی جانب بڑھا۔ گاڑی گيٹ سے نکالتے ہوۓ بھی وہ ايک نظر اسے ديکھنا نہيں بھولا تھا جو اپنے چکنا چور موبائل کو حسرت سے ديکھ رہی تھی۔ پہلے بھی ان کے درميان لڑائياں ہوتی تھيں مگر اس حد خبيب کبھی نہيں آيا تھا۔ نجانے يکدم اسے کيا ہوا تھا وہ سمجھنے سے قاصر تھی۔ وہ تو اکثر اسے اس سے بھی زيادہ زچ کر ديتی تھی۔ يہاں تک کہ اسکی سی ڈيز خراب کرنا۔۔اسکی شرٹس کو قينچی سے کاٹ دينا اور بھی نجانے کيا کيا مگر اس نے کبھی وہيبہ کو اس طرح کے نہ تو طعنے ديا تھے جيسے کل رات بے باک اور بے شرم ہونے کے۔ تو پھر اچانک سے يہ سب کيوں؟؟

   0
0 Comments